کولکاتہ،16نومبر (آئی این ایس انڈیا) مرکزی حکومت اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے درمیان کئی مسائل پر تنازع جاری ہے۔ اب بنگال حکومت بین الاقوامی سرحد کے اندر بی ایس ایف کے دائرہ اختیار کو 50 کلومیٹر تک بڑھائے جانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف مورچہ زن ہے۔
ٹی ایم سی نے آج اسمبلی میں بی ایس ایف کے دائرہ اختیار میں اضافہ کیخلاف ایک قرارداد منظور کی،جس کی بی جے پی نے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔مرکزی وزارت داخلہ کا مبینہ مقصد مغربی بنگال میں بنگلہ دیش سے متصل بین الاقوامی سرحد پر ہونے والی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں کو روک تھام کیلئے سخت قدم اٹھایا جانا ہے۔ جب کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سرحد کے اندر پچاس کلومیٹر تک کے علاقہ میں بی ایس ایف کو گرفتارکرنے، تلاشی لینے اور ضبط کرنے کے اختیارات دینے کے فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔اس سے قبل ممتا بنرجی اس معاملہ پر مرکزی حکومت کو خط بھی لکھ چکی ہیں۔ ایک دن پہلے جب ممتا بنرجی کی طرف سے اسمبلی میں یہ تجویز پیش کی گئی تو بی جے پی لیڈروں نے ہنگامہ کرتے ہوئے نعرے لگائے اور کارروائی کا بائیکاٹ کیا، اور واک آؤٹ کرگئے۔
توقع ہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اگلے ہفتے دہلی کے دورے پر ہوں گی، امکان ہے کہ وہ دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گی۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ممتا بنرجی 22 نومبر کو دہلی کے لیے روانہ ہوں گی اور 25 نومبر تک مختلف رہنماؤں سے ملاقات کریں گی۔واضح ہوکہ حال ہی میں جاری کردہ نئے نوٹیفکیشن میں، بی ایس ایف کو ضابطہئ فوجداری پروسیجر (سی آر پی سی)، پاسپورٹ ایکٹ (انٹری ان انڈیا) کے تحت یہ کارروائی کرنے کا حق ملا ہے۔ اب بارڈر سیکورٹی فورس (BSF) کے اہلکار پنجاب، آسام اور مغربی بنگال میں 50 کلومیٹر تک کے علاقہ میں تلاشی، چھاپے ماری اور گرفتاری کر سکتے ہیں۔
وہیں گجرات میں بی ایس ایف کا دائرہ اختیار 80 کلومیٹر سے کم کر کے 50 کلومیٹر کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ پنجاب حکومت نے بھی مرکز کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی، اس کیخلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد لائی گئی ہے۔ممتا بنرجی آج مغربی بنگال اسمبلی میں حکومت کے اس فیصلے کے خلاف قرارداد لائی ہیں۔ بی جے پی ایم ایل اے اگنی مترا پال نے الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ قرارداد لانے کا کیا مطلب ہے،مغربی بنگال دہشت گردو کی آماجگاہ بن چکا ہے، ریاستی حکومت 631 کلومیٹر طویل سرحدی علاقہ میں باڑ لگانے کے لیے زمین بھی مہیا نہیں کرا رہی ہے۔